21 فروری 2015 - 07:57
شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات میں صرف امریکہ اور اسرائیل کا مفاد ہے

ایرانی صدر کے معاون خصوصی برائے اقلیتی اور مذہبی امور نے کہا ہے کہ اسلام، اہلبیت علیہم السلام اور سنت کے نام پر شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے والے عناصر کے سازشوں میں صرف امریکہ اور غاصب صیہونی ریاست کا مفاد ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی صدر کے معاون خصوصی برائے اقلیتی اور مذہبی امور نے کہا ہے کہ اسلام، اہلبیت علیہم السلام اور سنت کے نام پر شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے والے عناصر کے سازشوں میں صرف امریکہ اور غاصب صیہونی ریاست کا مفاد ہے.

ان خيالات كا اظہار حجت الاسلام و المسلمين 'علي يونسي' نے جمعرات كے روز صوبہ سيستان و بلوچستان كے شہر 'چابہار' ميں قرآني مقابلوں كي اختتاميہ تقريب سے خطاب كرتے ہوئے كيا.
انہوں نے مسلم امہ كو مخاطب كرتے ہوئے كہا كہ كيوں نہ مسلمان آپس ميں اختلافات كے بجائے يكجہتي اور اتحاد كے لئے ايك دوسرے كے قريب ہوجائيں حالانكہ اس وقت دنيا ميں اسلام، قرآن اور شريعت كے نام انتہا پسند اور دہشتگرد عناصر نے ہزاروں بے گناہ افراد كو قتل كرتے ہيں.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ قرآن شريف ہماري ہر بيماري كے لئے شفا ہے مگر شرط صرف يہي كہ ہم قرآن كو تسليم كريں، ہميں اپنے آپ كو قرآن پر مسلط نہيں كرنا چاہئے يا قرآن سے اپنے مخصوص مقاصد كے لئے فائدہ اٹھائيں.
ايراني صدر كے معاون خصوصي نے كہا كہ مسلم امہ كے درميان قرآن شريف اتحاد اور يكجہتي كے لئے واحد مثالي ذريعہ ہے، قرآن انسانوں كے درميان وحدت بڑھاتاہے اور اختلافات كو ختم كركے اسے امن اور بھائي چارہے ميں تبديل كرتا ہے.
انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ اسلامي جمہوريہ ايران بردباري، اتحاد اور يكجہتي كے علمبردار رہنا چاہئے اور مسلم امہ كے درميان ہر وقت بہائي چارے اور اتحاد پر زور دينا چاہئے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲